معاشرے کا زوال سبق آموز اردو کہانی

سبق آموز اردو کہانی




گزشتہ رات دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنے کے بعد گھر آ رہا تھا تو گلی کے کونے میں ایک جوان لڑکی ایک بچہ کو اٹھاۓ ٹہل رہی تھی۔ میں نے قریب جا کر پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے تو اس نے بچہ کی بیماری کا بتایا میں نے کہا چلو کسی ہسپتال میں لے چلتا ہوں۔ لیکن اس لڑکی نے مجھے ایسے دیکھا کہ جیسے میں بھوت ہوں اور انکار کرتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوگئی۔۔۔
!!!

ایک دن ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ لے رہا تھا مجھ سے آگے ایک آدمی قطار میں کھڑا تھا جب اسکی باری آئی اور ٹکٹ لینے لگا جب پیسے دینے کی باری آئی تو اس نے دو ہزار کا نوٹ دیا بکنگ کلرک بگڑ گیا اس نے دو ہزار کا نوٹ نہ لیتے ہوئے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا کہ اس کے پاس صبح صبح چھٹا نہیں جاؤ جا کر چینج لیکر آؤ۔۔۔ اب وہ بندہ بڑا پریشان ہوا۔۔۔ میں نے اسے کہا گھبراؤ نہیں لاؤ نوٹ دو میں چینج دے دیتا ہوں۔۔۔

دیہاتی نے مجھے ایسے دیکھا کہ جیسے میں کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں اور اپنے دو ہزار کے نوٹ کو اور مضبوطی سے تھامے انکار کرتے ہوئے چلا گیا۔۔۔ ہم چار پانچ دوست ہیں جو عموماً ایک ساتھ رہتے ہیں۔۔ ہمارے محلے میں ایک رفیق چاچا رہتے ہیں جو غربت کی وجہ سے اپنی لڑکی کا نکاح نہیں کر پا رہے تھے، اسلئے ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ محلے کے چاچا رفیق کی بیٹی کی شادی ہے اور وہ بیچارہ غریب ہے مل کر مدد کرتے ہیں۔۔

پیسے جمع کئے تھوڑے سے اور ایک دوست کو بھیج دیا کہ جاؤ چاچا کو دے آؤ۔ جب اس نے چاچا رفیق کو پیسے دینے چاہے تو چاچا رفیق نے اسے تعجب بھری نگاہ سے دیکھا اور پیسے لینے سے انکار کر دیا کہ میں کیوں لوں نہیں چاہیے۔۔ جاؤ نکل جاؤ یہاں سے۔ اس سب کی وجہ صرف اور صرف بے اعتمادی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں کہ کسی کو بھی دوسرے پر بھروسہ نہیں یہاں تک کہ خونی رشتے بھی ایک دوسرے پر اعتبار کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچتے ہیں۔

حقیقت بھی یہ ہے کہ آج اگر کوئی شخص کسی پر مہربان ہوتا ہے تو صرف اپنے فائدہ کے لیے نا کہ اللّٰه کی رضا کی خاطر۔۔۔!!! خدا کے لیے اپنے دل نرم کریں دلوں سے کدورتیں نکالیں اور ہر دوسرے کو اعتماد میں لیں تاکہ ہر دوسرا آپ پر بھروسہ رکھتے ہوئے آپکی کسی بھی بات کو رد نہ کرسکے۔ کیونکہ جب بھی کوئی معاشرہ ختم ہونے پر آتا ہے تو بے اعتمادی کی فضا پھیل جاتی ہے پھر معاشرہ زوال کی طرف تیزی سے آنا شروع ہو جاتا ہے، جیسا کہ آج کا معاشرہ ظاہر بھی کررہا ہے۔


Post a Comment